Home ishq-o-husan پیار کی ہر اک رسم کہ جو متروک تھی میں نے جاری کی
پیار کی ہر اک رسم کہ جو متروک تھی میں نے جاری کی
پیار کی ہر اک رسم کہ جو متروک تھی میں نے جاری کی عشق لبادہ تن پر پہنا اور محبت طاری کی میں اب شہر عشق میں کچھ قانون بنانے والا ہوں اب اس اس کی خیر نہیں ہے جس جس نے غداری کی پہلے تھوڑی بہت محبت کی کہ کیسی ہوتی ہے پر جب اصلی چہرہ دیکھا میں نے تو پھر ساری کی جو بھی مڑ کر دیکھے گا وہ پتھر کا ہو جائے گا دیکھو دیکھو شہر میں آئے سناٹا اور تاریکی ایک جنم میں میں اس کا تھا ایک جنم میں وہ میرا ہم نے کی ہر بار محبت لیکن باری باری کی ہم سا ہو تو سامنے آئے عادل اور انصاف پسند دشمن کو بھی خون رلایا یاروں سے بھی یاری کی ایسا پیار تھا ہم دونوں میں کہ برسوں لا علم رہے اس نے بھی کردار نبھایا میں نے بھی فن کاری کی بات تو اتنی سی ہے واپس جانے کو میں آیا تھا سانس اٹھائی عمر سمیٹی چلنے کی تیاری کی
عامر امیرؔ read more our
0 Comments