Home chahat-poetry ملاتے ہو اسی کو خاک میں جو دل سے ملتا ہے
ملاتے ہو اسی کو خاک میں جو دل سے ملتا ہے
chahat-poetry
.
August 01, 2023
ملاتے ہو اسی کو خاک میں جو دل سے ملتا ہے مری جاں چاہنے والا بڑی مشکل سے ملتا ہے کہیں ہے عید کی شادی کہیں ماتم ہے مقتل میں کوئی قاتل سے ملتا ہے کوئی بسمل سے ملتا ہے پس پردہ بھی لیلی ہاتھ رک لیتی ہے آنکھوں پر غبارِ ناتوانِ قیس جب محمل سے ملتا ہے بھرے ہیں تجھ میں وہ لاکھوں ہنر اے مجمع خوبی ملاقاتی ترا گویا بھری محفل سے ملتا ہے مجھے آتا ہے کیا کیا رشک وقتِ ذبح اس سے بھی گلا جس دم لپٹ کر خنجرِ قاتل سے ملتا ہے بظاہر با ادب یوں حضرتِ ناصح سے ملتا ہوں مریدِ خاص جیسے مرشدِ کامل سے ملتا ہے مثال گنج قاروں اہل حاجت سے نہیں چھپتا جو ہوتا ہے سخی خود ڈھونڈ کر سائل سے ملتا ہے جواب اس بات کا اس شوخ کو کیا دے سکے کوئی جو دل لے کر کہے کم بخت تو کس دل سے ملتا ہے چھپانے سے کوئی چھپتی ہے اپنے دل کی بیتابی کہ ہر تارِ نفس اپنا رگِ بسمل سے ملتا ہے عدم کی جو حقیقت ہے وہ پوچھو اہلِ ہستی سے مسافر کو تو منزل کا پتہ منزل سے ملتا ہے غضب ہے داغ کے دل سے تمہارا دل نہیں ملتا تمہارا چاند سا چہرہ مہ کامل سے ملتا ہے داغ دہلوی Read more Our
0 Comments