گلہ نہیں ہے اگر مَیں تیری نظر میں نہیں
ستارہ کوئی بھی اِس وقت اپنے گھر میں نہیں
تری طرح مری دنیا میں اختیار کسے
مری طرح کوئی بے بس ترے نگر میں نہیں
کِیا ہے فکرِ نشیمن سے برق نے آزاد
خدا کا شکر کہ اب میں کسی خطر میں نہیں
اب احتساب کسی کا کوئی کرے کیسے
…
Social Plugin