آواز کے ہم راہ سراپا بھی تو دیکھوں
اے جان سخن میں تیرا چہرہ بھی تو دیکھوں
دستک تو کچھ ایسی ہے کہ دل چھونے لگی ہے
اس حبس میں بارش کا یہ جھونکا بھی تو دیکھوں
صحرا کی طرح رہتے ہوئے تھک گئیں آنکھیں
دکھ کہتا ہے میں اب کوئی دریا بھی تو دیکھوں
یہ کیا کہ و…
اپنی رسوائی ، تیرے نام کا چرچا دیکھوں
اِک ذرا شعر کہوں , اور میں کیا کیا دیکھوں
نیند آ جائے تو کیا محفلیں برپا دیکھوں
آنکھ کھُل جائے تو تنہائی کا صحرا دیکھوں
تو مرا کُچھ نہیں لگتا ھے مگر جانِ حیات
جانے کیوں تیرے لیے دل کو دھڑکتا دیکھوں
بند کر کے مِری آن…
Social Plugin