کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشیں رہے
جب تک ہمارے پاس رہے ہم نہیں رہے
ایمان و کفر اور نہ دنیا و دیں رہے
اے عشق شاد باش کہ تنہا ہمیں رہے
عالم جب ایک حال پہ قائم نہیں رہے
کیا خاک اعتبار نگاہ یقیں رہے
میری زباں پہ شکوہ درد آفریں رہے
شاید مرے حواس ٹھکانے نہیں رہے
ج…
میرے محبوب تجھے میری محبت کی قسم
پھر مجھے نرگسی آنکھوں کا سہارہ دے دے
میرا کھویا ہوا رنگین نظارہ دے دے
میرے محبوب تجھے میری محبت کی قسم
اے میرے خواب کی تعبیر میری جانِ غزل
زندگی میری تجھے یاد کیے جاتی ہے
رات دن مجھ کو ستاتا ہے تصور تیرا
دل کی دھڑکن تجھے آ…
چَشمِ میگوں ، ذرا اِدھر کر دے
دَستِ قدرت کو ، بے اثر کر دے
تیز ھے آج ، دردِ دِل ساقی
تلخئ مَئے کو ، تیز تر کر دے
جوشِ وحشت ھے ، تشنہ کام ابھی
چاکِ دامن کو ، تا جِگر کر دے
میری قسمت سے کھیلنے والے
مجھ کو قسمت سے ، بے خبر کر دے
لُٹ رھی ھے میری ، متاعِ ن…
کیا دن مجھے عشق نے دکھائے
اِک بار جو آئے پھر نہ آئے
اُس پیکرِ ناز کا فسانہ
دل ہوش میں آۓ تو سُنائے
وہ روحِ خیال و جانِ مضموں
دل اس کو کہاں سے ڈھونڈھ لائے
آنکھیں تھیں کہ دو چھلکتے ساغر
عارض کہ شراب تھرتھرائے
مہکی ہوئ سانس نرم گفتار
ہر ایک روش پہ گل کھلائے
راہو…
ہم جو ہر بار تیری بات میں آجاتے ہیں
گھوم پھر کر اسی اوقات میں آجاتے ہیں
جب اسے باقی نہیں رہتی ضرورت میری
درجنوں عیب میری ذات میں آجاتے ہیں
جا پہنچتے ہیں جہاں رزق بلاتا ہے ہمیں
گھر سے چلتے ہیں مضافات میں آجاتے ہیں
ہجر کے دن تو عموما بھی نہیں ہیں آساں
…
ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے
آئے تو سہی بر سرِ الزام ہی آئے
حیران ہیں، لب بستہ ہیں، دل گیر ہیں غنچے
خوشبو کی زبانی تیرا پیغام ہی آئے
لمحاتِ مسرت ہیں تصوّر سے گریزاں
یاد آئے ہیں جب بھی غم و آلام ہی آئے
تاروں سے سجالیں گے رہ شہرِ تمنّا
مقدور نہ…
سحر نے اندھی گلی کی طرف نہیں دیکھا جسے طلب تھی اسی کی طرف نہیں دیکھا قلق تھا سب کو سمندر کی بے قراری کا کسی نے مڑ کے ندی کی طرف نہیں دیکھا کچوکے دیتی رہیں غربتیں مجھے لیکن مری انا نے کسی کی طرف نہیں دیکھا سفر کے بیچ یہ کیسا بدل گیا موسم کہ پھر کسی نے کسی …
Continue Readingاے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے
منزل کے لیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائ
کشتی کو خدا پر چھوڑ بھی دے کشتی کا خدا خود حافظ
مشکل تو نہیں ان موجوں میں بہتا ہوا ساحل آ جائ
اے شمع قسم پروانوں کی اتنا تو مری خاطر کرنا
اس وقت بھڑک کر گل ہونا جب…
سنا ہے کھل گئےتھے ، ان کے گیسو سیرگلشن میں صبا تیرا برا ہو ، تو نے مجھ کو بے خبر رکھا نہ تُم آۓ شبِ وعدہ، پریشاں رات بھر رکھّا دِیا اُمّید کا میں نے جلا کر تا سحر رکھّا وہی دِل چھوڑ کر مجھ کو کسی کا ہو گیا آخر جسے نازوں سے پالا، جس کو ارمانوں سے گھر…
Continue Readingہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں
اب ٹھہرتی ہے دیکھیے جا کر نظر کہاں
ہے دورِ جام اول شب میں خودی سے دور
ہوتی ہے آج دیکھیے ہم کو سحر کہاں
یارب اس اختلاط کا انجام ہو بخیر
تھا اس کو ہم سے ربط مگر اس قدر کہاں
اک عمر چاہیے کہ گوارا ہو نیش عشق
رکھی ہے آج لذتِ زخ…
غزل
خالی خالی سی وہاں صبح کی جھولی ہوگی
رات بھی ساتھ ہی تیرے کہیں ہَو لی ہوگی
آسماں پر تیرے ہونٹوں کے نشاں سے ہوں گے
نیلگوں عکس نے مَے سی کوئی گھولی ہوگی
ابر جھکتے ہی در و بام پہ جل تھل ہوگا
دیکھنے چھت پہ تجھے رنگوں کی ٹولی ہوگی
سبزہ مہکا ہُوا ہوگا تیرے آن…
سایہء زلف ڈال کے ہم کو پھنسا لیا
پہلو میں لے کے آپ نے پہلو ہٹا لیا
The shadow threw us and trapped us
By taking in the side, you have removed the side
کر کے شکار ظلم کا اپنا بنا لیا
جیسے گناہ گار نے گنگا نہا لیا
He made the victim of oppression his own
As…
غبار راہ آئینہء،نقش کارواں بھی ہے
یہ گرد کارواں،سر گرمیوں کی ترجمان بھی ہے
The balloon is a mirror, the pattern is also a caravan
It is also a symbol of Gard Karvan, early summer
جو صحرائے جہاں میں،رہگزر اتنے
انہین ذروں میں،ظاھر زںدگانی کا نشان بھی ہے
W…
غزل
بکھر رہی ہے میری ذات ، اسے کہہ دینا
کہیں ملے وہ ، تو یہ بات اسے کہہ دینا
اسے یہ کہنا کہ بن اس کے دن نہیں کٹتا
سسک کے کٹتی ہے ہر رات اسے کہہ دینا
وہ ساتھ تھا تو زمانہ تھا ہمسفر میرا
مگر اب کوئی نہیں ساتھ اسے کہہ دینا
گنوا کے پیار میں خود کو ہی ہم…
تجھ کو معلوم نہیں تجھ کو بھلا کیا معلوم
تیرے چہرے کے یہ سادہ سے اچھوتے سے نقوش
میری تخئیل کو کیا رنگ عطا کرتے ہیں
تیری زلفیں تری آنکھیں ترے عارض ترے ہونٹ
کیسی ان جانی سی معصوم خطا کرتے ہیں
تیرے قامت کا لچکتا ہوا مغرور تناؤ
جیسے پھولوں سے لدی شاخ ہو…
غزل
صد خواب لئے آنکھ یہ بےخواب بہت ہے
اور دل بھی شبِ وصل میں بے تاب بہت ہے
ہے نغمۂ ہستی کو اگر ساز کی حاجت
پھر اس کے لئے درد کا مضراب بہت ہے
یہ کشتِ وفا ہو گئی ویران تو کیا غم
اک زخم کا گلشن ہے کہ شاداب بہت ہے
ہوں دام تو ہر چیز میسر ہے جہاں میں
اک جنسِ مح…
وہ رستے ترک کرتا ہوں ، وہ منزل چھوڑ دیتا ہوں
جہاں عزت نہیں ملتی ، وہ محفل چھوڑ دیتا ہوں
کناروں سے اگر میری خُودی کو ٹھیس پہنچے تو
بھنور میں ڈوب جاتا ہوں، وہ ساحل چھوڑ دیتا ہوں
مجھے مانگے ہوئے سائے ہمیشہ دُھوپ لگتے ہیں
میں سورج کے گلے پڑتا ہوں، بادل چھوڑ…
کیا کہیے کیا رکھیں ہیں ہم تجھ سے یار خواہش
یک جان و صد تمنا، یک دل ہزار خواہش
لے ہاتھ میں قفس ٹک صیاد چل چمن تک
مدت سے ہے ہمیں بھی سیر بہار خواہش
نے کچھ گنہ ہے دل کا نے جرم چشم اس میں
رکھتی ہے ہم کو اتنا بے اختیار خواہش
حالانکہ عمر ساری مایوس گزری …
گھنگرو پہ بات کر نہ تو پائل پہ بات کر
مجھ سےطوائفوں کےمسائل پہ بات کر
فٹ پاتھ پر پڑا ہوا دیوان میر دیکھ
ردی میں بکنےوالےرسائل پہ بات کر
اس میں بھی اجر ہے نہاں ، نفلی نماز کا
مسجد میں بھیک مانگتےسائل پہ بات کر
میرا دعا سے بڑھ کے ، دوا پر یقین ہے
م…
Social Plugin