گفتگو اچھی لگی ذوق نظر اچھا لگا
مدتوں کے بعد کوئی ہم سفر اچھا لگا
دل کا دکھ جانا تو دل کا مسئلہ ہے پر ہمیں
اس کا ہنس دینا ہمارے حال پر اچھا لگا
ہر طرح کی بے سر و سامانیوں کے باوجود
آج وہ آیا تو مجھ کو اپنا گھر اچھا لگا
باغباں گلچیں کو چاہے جو کہے ہم کو تو…
دکھ فسانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں
دل بھی مانا نہیں کہ تجھ سے کہیں
آج تک اپنی بیکلی کا سبب
خود بھی جانا نہیں کہ تجھ سے کہیں
بے طرح حال دل ہے اور تجھ سے
دوستانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں
ایک تو حرف آشنا تھا مگر
اب زمانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں
قاصدا ہم فقیر لوگوں کا
اک ٹھکا…
اب وہ منظر نہ وہ چہرے ہی نظر آتے ہیں
مجھ کو معلوم نہ تھا خواب بھی مر جاتے ہیں
جانے کس حال میں ہم ہیں کہ ہمیں دیکھ کے سب
ایک پل کے لیے رکتے ہیں گزر جاتے ہیں
طعنہٓ نشّہ نہ دو سب کو کہ کچھ سوختہ جاں
شدّتِ تشنہ لبی سے بھی بہک جاتے ہیں
جیسے تجدید تعلّق کی بھی …
غزل
سلسلے توڑ گیا، وہ سبھی جاتے جاتے
ورنہ اتنے تو مراسم تھے، کہ آتے جاتے
شکوۂ ظلمتِ شب سے، تو کہیں بہتر تھا
اپنے حِصّے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
کتنا آساں تھا ترے ہجر میں مرنا جاناں
پھر بھی اک عمر لگی، جان سے جاتے جاتے
جشنِ مقتل ہی نہ برپا ہوا، ورنہ ہم …
Social Plugin