ڈر تو مجھے کس کا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
پر حال یہ افشا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
ناصح یہ گلہ کیا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
تو کب مری سنتا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
میں بولوں تو چپ ہوتے ہیں اب آپ جبھی تک
یہ رنجش بے جا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
کچھ غیر سے ہونٹوں …
راستے جو بھی چمک دار نظر آتے ہیں
سب تیری اوڑھنی کے تار نظر آتے ہیں
کوئی پاگل ہی محبت سے نوازے گا مجھے
آپ تو خیر سمجھ دار نظر آتے ہیں
میں کہاں جاؤں کروں کس سے شکایت اس کی
ہر طرف اس کے طرفدار نظر آتے ہیں
زخم بھرنے لگے ہیں پچھلی ملاقاتوں کے
پھر ملاقات …
پرندے شام ہونے سے پہلے ٹھکانہ ڈھونڈ لیتے ہیں
" پرندے اپنا اپنا آشیانہ ڈھونڈ لیتے ہیں "
کھنڈر میں بھی کوئی نقشہ پرانا ڈھونڈ لیتے ہیں
مہم جو لوگ پوشیدہ خزانہ ڈھونڈ لیتے ہیں
سکھا دیتی ہے فطرت خود ترنم آبشاروں کو
لبِ شیریں محبت کا ترانہ ڈھونڈ لیتے …
ہزاروں بھیس بدل کر بھی نا مراد رہامرے خدا تری دنیا نہیں کھلی مجھ پر
راکب مختار
خوبی ہے عاقلوں کی تماشا کہیں جسے
Social Plugin