سنا ہے کھل گئےتھے ، ان کے گیسو سیرگلشن میں صبا تیرا برا ہو ، تو نے مجھ کو بے خبر رکھا
نہ تُم آۓ شبِ وعدہ، پریشاں رات بھر رکھّا
دِیا اُمّید کا میں نے جلا کر تا سحر رکھّا
وہی دِل چھوڑ کر مجھ کو کسی کا ہو گیا آخر
جسے نازوں سے پالا، جس کو ارمانوں سے گھر …
Social Plugin