Home Habib-jalib اپنوں نے وہ رنج دئے ہیں بیگانے یاد آتے ہیں
اپنوں نے وہ رنج دئے ہیں بیگانے یاد آتے ہیں
Habib-jalib
.
March 23, 2025
اپنوں نے وہ رنج دئے ہیں بیگانے یاد آتے ہیں دیکھ کے اس بستی کی حالت ویرانے یاد آتے ہیں اس نگری میں قدم قدم پہ سر کو جھکانا پڑتا ہے اس نگری میں قدم قدم پر بت خانے یاد آتے ہیں آنکھیں پر نم ہو جاتی ہیں غربت کے صحراؤں میں جب اس رم جھم کی وادی کے افسانے یاد آتے ہیں ایسے ایسے درد ملے ہیں نئے دیاروں میں ہم کو بچھڑے ہوئے کچھ لوگ پرانے یارانے یاد آتے ہیں جن کے کارن آج ہمارے حال پہ دنیا ہستی ہے کتنے ظالم چہرے جانے پہچانے یاد آتے ہیں یوں نہ لٹی تھی گلیوں دولت اپنے اشکوں کی روتے ہیں تو ہم کو اپنے غم خانے یاد آتے ہیں کوئی تو پرچم لے کر نکلے اپنے گریباں کا جالبؔ چاروں جانب سناٹا ہے دیوانے یاد آتے ہیں۔ حبیب جالبsemore
0 Comments