ﺷﺐِ ﻓﺮﺍﻕ ﺳﮯ ﻭﺣﺸﺖ ﺍﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﯽﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﺡ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﯽﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺷﻮﻕ ﺗﮭﺎ ﻧﺌﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺩﯾﺪ ﮐﺎﺭﺳﺘﮧ ﺑﺪﻝ ﮐﮯ ﭼﻠﻨﮯ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﺍﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﯽﺍﺱ ﺭﺍﺕ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﻭﮦ ﺭﮨﺎ ﻣﺤﻮِ ﮔﻔﺘﮕﻮﻣﺼﺮﻭﻑ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﻢ ﺗﮭﺎ ﻓﺮﺍﻏﺖ ﺍﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﯽﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﭽﮭﮍ ﮐﮯ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ گھل ﻣﻞ ﮔﯿﺎ ﻭﮦ ﺷﺨﺺﺣﺎﻻﻧﮑﮧ…
Continue Readingملاتے ہو اسی کو خاک میں جو دل سے ملتا ہے
مری جاں چاہنے والا بڑی مشکل سے ملتا ہے
کہیں ہے عید کی شادی کہیں ماتم ہے مقتل میں
کوئی قاتل سے ملتا ہے کوئی بسمل سے ملتا ہے
پس پردہ بھی لیلی ہاتھ رک لیتی ہے آنکھوں پر
…
Social Plugin