ﺗﻢ ﺗﻮ ﻭﻓﺎ ﺷﻨﺎﺱ ﻭ ﻣﺤﺒﺖ ﻧﻮﺍﺯ ﮬﻮ
ﮬﺎﮞ ، ﻣﯿﮟ ﺩﻏﺎ ﺷﻌﺎﺭ ﺳﮩﯽ، ﺑﮯ ﻭﻓﺎ ﺳﮩﯽ
ﺗﻢ ﮐﻮ ﺗﻮ ﻧﺎﺯ ﮬﮯ ﺩﻝِ ﺍﻟﻔﺖ ﻧﺼﯿﺐ ﭘﺮ
ﻣﯿﮟ ﻣﺎﺟﺮﺍﺋﮯ ﺩﺭﺩ ﺳﮯ ﻧﺎ ﺁﺷﻨﺎ ﺳﮩﯽ
ﻧﺎ ﺁﺷﻨﺎﺋﮯ ﺩﺭﺩ ﮐﻮ ﺷﮑﻮﮦ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﻏﺮﺽ
ﺗﻢ ﮐﻮ ﺷﮑﺎﯾﺖِ ﻏﻢِ ﻓﺮﻗﺖ ﺭﻭﺍ ﺳﮩﯽ
ﺗﻢ ﮐﻮ ﺗﻮ ﺭﺳﻢِ ﻇﻠﻢ ﻭ ﺳﺘﻢ ﺳﮯ ﮬﮯ ﺍﺟﺘﻨﺎﺏ
ﺗﻢ ﺳﺮ ﺑﺴﺮ ﻋﻄﺎ ﺳﮩﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺧ…
اور اس دل میں کیا رکھا ہے
تیرا ہی درد چھپا رکھا ہے
اتنے دکھوں کی تیز ہوا میں
دل کا دیپ جلا رکھا ہے
دھوپ سے چہروں نے دنیا میں
کیا اندھیر مچا رکھا ہے
اس نگری کے کچھ لوگوں نے
دکھ کا نام دوا رکھا ہے
وعدۂ یار کی بات نہ چھیڑو
یہ دھوکا بھی کھا رکھا ہے
بھول بھی جاؤ ب…
گفتگو اچھی لگی ذوق نظر اچھا لگا
مدتوں کے بعد کوئی ہم سفر اچھا لگا
دل کا دکھ جانا تو دل کا مسئلہ ہے پر ہمیں
اس کا ہنس دینا ہمارے حال پر اچھا لگا
ہر طرح کی بے سر و سامانیوں کے باوجود
آج وہ آیا تو مجھ کو اپنا گھر اچھا لگا
باغباں گلچیں کو چاہے جو کہے ہم کو تو…
لہرائے سدا آنکھ میں پیارے تیرا آنچل
جھومر ہے تیرا چاند ــ ســتارے تیرا آنچل
اَب تک میری یادوں میں ہے رنگوں کا تلاطم
دیکھا تھا کبھی ــ جھیل کنارے تیرا آنچل
لپٹے کبھی شانوں سے کبھی زُلف سے اُلجھے
کیوں ڈُھونڈھتا رہتا ہے ــ سہارے تیرا آنچل
مہکیں تیری خوشبُ…
دکھ فسانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں
دل بھی مانا نہیں کہ تجھ سے کہیں
آج تک اپنی بیکلی کا سبب
خود بھی جانا نہیں کہ تجھ سے کہیں
بے طرح حال دل ہے اور تجھ سے
دوستانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں
ایک تو حرف آشنا تھا مگر
اب زمانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں
قاصدا ہم فقیر لوگوں کا
اک ٹھکا…
اب وہ منظر نہ وہ چہرے ہی نظر آتے ہیں
مجھ کو معلوم نہ تھا خواب بھی مر جاتے ہیں
جانے کس حال میں ہم ہیں کہ ہمیں دیکھ کے سب
ایک پل کے لیے رکتے ہیں گزر جاتے ہیں
طعنہٓ نشّہ نہ دو سب کو کہ کچھ سوختہ جاں
شدّتِ تشنہ لبی سے بھی بہک جاتے ہیں
جیسے تجدید تعلّق کی بھی …
شکوہ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال
کیوں زیاں کار بنوں،سُود فراموش رہوں
فکرِ فردا نہ کروں،محوِ غمِ دوش رہوں
نالے بُلبُل کے سُنوں اور ہمہ تن گوش رہوں
ہم نوا میں بھی کوئی گُل ہوں کہ خاموش رہوں
جُرأت آموز میری تابِ سخن ہے مجھ کو
شکوہ اللہ سے،حاکمِ بدہن ہے مجھ کو
ہے…
کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشیں رہے
جب تک ہمارے پاس رہے ہم نہیں رہے
ایمان و کفر اور نہ دنیا و دیں رہے
اے عشق شاد باش کہ تنہا ہمیں رہے
عالم جب ایک حال پہ قائم نہیں رہے
کیا خاک اعتبار نگاہ یقیں رہے
میری زباں پہ شکوہ درد آفریں رہے
شاید مرے حواس ٹھکانے نہیں رہے
ج…
صدمہ تو ہے مجھے بھی کہ تجھ سے جدا ہوں میں
لیکن یہ سوچتا ہوں کہ اب تیرا کیا ہوں میں
بکھرا پڑا ہے تیرے ہی گھر میں ترا وجود
بے کار محفلوں میں تجھے ڈھونڈتا ہوں میں
میں خودکشی کے جرم کا کرتا ہوں اعتراف
اپنے بدن کی قبر میں کب سے گڑا ہوں میں
کس کس کا نام لاؤں زب…
تیرے خیال کی اک روشنی سی رہتی ہے
ھر ملاقات میں اک تشنگی سی رہتی ہے
گئے دنوں کی ہی افسردگی کے عالم میں
یہ پیار رہے نہ رہے دوستی سی رہتی ہے
محبتوں کی بھی اک داستان حسرت ہے
خیالِ یار کی وہ جلوہ گری سی رہتی ہے
حسن ناداں ہی ہر ایک دل کی چاہت ہے
مریض عشق…
وہ دل ہی کیا جو تیرے ملنے کی دعا نہ کرے
میں تجھ کو بھول کر زندہ رہوں خدا نہ کرے
رہے گا ساتھ تیرا، پیار زندگی بن کر
یہ اور بات ہے زندگی میری وفا نہ کرے
یہ ٹھیک ہے نہیں مرتا کوئی جدائی میں
خدا کسی کو کسی سے مگر جدا نہ کرے
اگر وفا پر بھروسہ رہے نہ دنیا کو
تو…
Social Plugin