مرے بس میں کاش یارب وہ سِتم شعار ہوتا مرے بس میں کاش یارب وہ سِتم شعار ہوتا
یہ نہ تھا تو کاش دِل پر مُجھے اختیار ہوتا
پسِ مرگ کاش یونہى مُجھے وصلِ یار ہوتا
وہ سرِ مزار ہوتا میں تہہِ مزار ہوتا
جو نِگاہ کى تھى ظالم تو پِھر آنکھ کیوں چُرائ
وُہى تِیر کیوں …
اب یہ عالم ہے کہ غم کی بھی خبر ہوتی نہیں
اشک بہہ جاتے ہیں لیکن آنکھ تر ہوتی نہیں
پھر کوئی کم بخت کشتی نذر طوفاں ہو گئی
ورنہ ساحل پر اداسی اس قدر ہوتی نہیں
تیرا انداز تغافل ہے جنوں میں آج کل
چاک کر لیتا ہوں دامن اور خبر ہوتی نہیں
ہائے کس عالم میں چھوڑا ہے …
آواز کے ہم راہ سراپا بھی تو دیکھوں
اے جان سخن میں تیرا چہرہ بھی تو دیکھوں
دستک تو کچھ ایسی ہے کہ دل چھونے لگی ہے
اس حبس میں بارش کا یہ جھونکا بھی تو دیکھوں
صحرا کی طرح رہتے ہوئے تھک گئیں آنکھیں
دکھ کہتا ہے میں اب کوئی دریا بھی تو دیکھوں
یہ کیا کہ و…
تسکین جو دل کی تمہیں کرنا نہیں آتا
دل کو بھی مری جان ٹھہرنا نہیں آتا
مٹھی میں دبا کر دلِ مضطر کو وہ بولے
ہاں اب تو کہے مجھ کو ٹھہرنا نہیں آتا
اک نقش تمہارا ہے کہ وہ دل میں جما ہے
اک تم ہو کہ پہلو میں ٹھہرنا نہیں آتا
ڈر ہم کو ہے بدنام نہ دشمن ہوں تمہارے
ت…
Social Plugin