Showing posts from December, 2022Show all
 دلوں کو توڑنے والو تمہیں کسی سے کیا
 ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں
سانس لینا بھی سزا لگتا ہے
 جلوہ بے مایہ سا تھا چشم و نظر سے پہلے
شرما گئے لجا گئے دامن چھڑا گئے
 تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہو
 اداسی میں گِھرا تھا دل، چراغِ شام سے پہلے
دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میں
 جس نے تری آنکھوں میں شرارت نہیں دیکھی
خالی خالی سی وہاں صبح کی جھولی ہوگی
Load More That is All