دلوں کو توڑنے والو تمہیں کسی سے کیا
ملو تو آنکھ چرا لو تمہیں کسی سے کیا
ہماری لغزش پا کا خیال کیوں ہے تمہیں
تم اپنی چال سنبھالو تمہیں کسی سے کیا
چمک کے اور بڑھاؤ مری سیہ بختی
کسی کے گھر کے اجالو تمہیں کسی سے کیا
نظر بچا کے گزر جاؤ میری تربت سے
کسی …
ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں
اب ٹھہرتی ہے دیکھیے جا کر نظر کہاں
ہے دورِ جام اول شب میں خودی سے دور
ہوتی ہے آج دیکھیے ہم کو سحر کہاں
یارب اس اختلاط کا انجام ہو بخیر
تھا اس کو ہم سے ربط مگر اس قدر کہاں
اک عمر چاہیے کہ گوارا ہو نیش عشق
رکھی ہے آج لذتِ زخ…
یادیں
سانس لینا بھی سزا لگتا ہے
اَب تو مرنا بھی رَوا لگتا ہے
کوہِ غم پر سے جو دیکھوں تو مجھے
دشت آغوش فنا لگتا ہے
سرِ بازار ہے یاروں کی تلاش
جو گزرتا ہے خفا لگتا ہے
موسمِ گل میں سرِ شاخ گلاب
شعلہ بھڑکے تو بجا لگتا ہے
مسکراتا ہے جو اس عالم میں
با خدا …
جلوہ بے مایہ سا تھا چشم و نظر سے پہلے
زیست اک حادثہ تھی قلب و جگر سے پہلے
حسن کے سوز نمائش کا ہے انعام حیات
وقت بھی وقت نہ تھا شمس و قمر سے پہلے
وحی اتری دل بے تاب کی تشکیل کے بعد
عشق تعمیر ہوا علم و ہنر سے پہلے
عین فردوس میں جل اٹھا تھا آدم کا شباب
آگ برس…
شرما گئے لجا گئے دامن چھڑا گئے
اے عشق مرحبا وہ یہاں تک تو آ گئے
دل پر ہزار طرح کے اوہام چھا گئے
یہ تم نے کیا کیا مری دنیا میں آ گئے
سب کچھ لٹا کے راہ محبت میں اہل دل
خوش ہیں کہ جیسے دولت کونین پا گئے
صحن چمن کو اپنی بہاروں پہ ناز تھا
وہ آ گئے تو سار…
تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہو
جو ملے خواب میں وہ دولت ہو
میں تمہارے ہی دم سے زندہ ہوں
مر ہی جاؤں جو تم سے فرصت ہو
تم ہو خوشبو کے خواب کی خوشبو
اور اتنی ہی_______ بے مروت ہو
تم ہو پہلومیں___پر قرار نہیں
یعنی ایسا ہے جیسے فرقت ہو
تم ہو انگڑائی رنگ و نکہت کی
کیسے …
اداسی میں گِھرا تھا دل، چراغِ شام سے پہلے
نہیں تھا کُچھ سرِ محفل، چراغِ شام سے پہلے
حُدی خوانو، بڑھاؤ لَے، اندھیرا ہونے والا ہے
پہنچنا ہے سرِ منزل، چراغِ شام سے پہلے
دلوں میں اور ستاروں میں اچانک جاگ اٹھتی ہے
عجب ہلچل، عجب جھل مِل، چراغِ شام سے پہلے
…
غزل
دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میں
دل میں کسی کے راہ کئے جا رہا ہوں میں
کتنا حسیں گناہ کئے جا رہا ہوں میں
دنیائے دل تباہ کئے جا رہا ہوں میں
صرف نگاہ و آہ کئے جا رہا ہوں میں
فرد عمل سیاہ کئے جا رہا ہوں میں
رحمت کو بے پناہ کئے جا رہا ہوں میں
ایس…
جس نے تری آنکھوں میں شرارت نہیں دیکھی
وہ لاکھ کہے اس نے محبت نہیں دیکھی
اک روپ مرے خواب میں لہرا سا گیا تھا
پھر دل میں کوئی چیز سلامت نہیں دیکھی
آئینہ تجھے دیکھ کے گل نار ہوا تھا
شاید تری آنکھوں نے وہ رنگت نہیں دیکھی
یوں نقش ہوا آنکھ کی پتلی پہ وہ چ…
غزل
خالی خالی سی وہاں صبح کی جھولی ہوگی
رات بھی ساتھ ہی تیرے کہیں ہَو لی ہوگی
آسماں پر تیرے ہونٹوں کے نشاں سے ہوں گے
نیلگوں عکس نے مَے سی کوئی گھولی ہوگی
ابر جھکتے ہی در و بام پہ جل تھل ہوگا
دیکھنے چھت پہ تجھے رنگوں کی ٹولی ہوگی
سبزہ مہکا ہُوا ہوگا تیرے آن…
Social Plugin