Posts

اپنوں نے وہ رنج دئے ہیں بیگانے یاد آتے ہیں

مرے بس میں کاش یارب وہ سِتم شعار ہوتا

اب یہ عالم ہے کہ غم کی بھی خبر ہوتی نہیں

آواز کے ہم راہ سراپا بھی تو دیکھوں

تسکین جو دل کی تمہیں کرنا نہیں آتا

بھول جانا تھا تو پھر اپنا بنایا کیوں تھا

شاد باد اے عشق حسن سودائے ما

اچھی آنکھوں کے پُجاری ھیں مرے شہر کے لوگ

تبھی تو میں محبت کا حوالاتی نہیں ہوتا

عشق پیاسے کی صدا ھو جیسے

حُسن اُس کا جب جہاں میں جَلوہ آرا ھو گیا جِس نے دیکھا

سنا ہے کھل گئےتھے ، ان کے گیسو سیرگلشن میں

ﺫﮐﺮ ﺷﺐِ ﻓﺮﺍﻕ ﺳﮯ ﻭﺣﺸﺖ ﺍﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﯽ

ملاتے ہو اسی کو خاک میں جو دل سے ملتا ہے

ﺗﻢ ﺗﻮ ﻭﻓﺎ ﺷﻨﺎﺱ ﻭ ﻣﺤﺒﺖ ﻧﻮﺍﺯ ﮬﻮ