میرے محبوب تجھے میری محبت کی قسم
پھر مجھے نرگسی آنکھوں کا سہارہ دے دے
میرا کھویا ہوا رنگین نظارہ دے دے
میرے محبوب تجھے میری محبت کی قسم
اے میرے خواب کی تعبیر میری جانِ غزل
زندگی میری تجھے یاد کیے جاتی ہے
رات دن مجھ کو ستاتا ہے تصور تیرا
دل کی دھڑکن تجھے آ…
چَشمِ میگوں ، ذرا اِدھر کر دے
دَستِ قدرت کو ، بے اثر کر دے
تیز ھے آج ، دردِ دِل ساقی
تلخئ مَئے کو ، تیز تر کر دے
جوشِ وحشت ھے ، تشنہ کام ابھی
چاکِ دامن کو ، تا جِگر کر دے
میری قسمت سے کھیلنے والے
مجھ کو قسمت سے ، بے خبر کر دے
لُٹ رھی ھے میری ، متاعِ ن…
کیا دن مجھے عشق نے دکھائے
اِک بار جو آئے پھر نہ آئے
اُس پیکرِ ناز کا فسانہ
دل ہوش میں آۓ تو سُنائے
وہ روحِ خیال و جانِ مضموں
دل اس کو کہاں سے ڈھونڈھ لائے
آنکھیں تھیں کہ دو چھلکتے ساغر
عارض کہ شراب تھرتھرائے
مہکی ہوئ سانس نرم گفتار
ہر ایک روش پہ گل کھلائے
راہو…
ہم جو ہر بار تیری بات میں آجاتے ہیں
گھوم پھر کر اسی اوقات میں آجاتے ہیں
جب اسے باقی نہیں رہتی ضرورت میری
درجنوں عیب میری ذات میں آجاتے ہیں
جا پہنچتے ہیں جہاں رزق بلاتا ہے ہمیں
گھر سے چلتے ہیں مضافات میں آجاتے ہیں
ہجر کے دن تو عموما بھی نہیں ہیں آساں
…
ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آئے
آئے تو سہی بر سرِ الزام ہی آئے
حیران ہیں، لب بستہ ہیں، دل گیر ہیں غنچے
خوشبو کی زبانی تیرا پیغام ہی آئے
لمحاتِ مسرت ہیں تصوّر سے گریزاں
یاد آئے ہیں جب بھی غم و آلام ہی آئے
تاروں سے سجالیں گے رہ شہرِ تمنّا
مقدور نہ…
سحر نے اندھی گلی کی طرف نہیں دیکھا جسے طلب تھی اسی کی طرف نہیں دیکھا قلق تھا سب کو سمندر کی بے قراری کا کسی نے مڑ کے ندی کی طرف نہیں دیکھا کچوکے دیتی رہیں غربتیں مجھے لیکن مری انا نے کسی کی طرف نہیں دیکھا سفر کے بیچ یہ کیسا بدل گیا موسم کہ پھر کسی نے کسی …
Continue Readingاے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے
منزل کے لیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائ
کشتی کو خدا پر چھوڑ بھی دے کشتی کا خدا خود حافظ
مشکل تو نہیں ان موجوں میں بہتا ہوا ساحل آ جائ
اے شمع قسم پروانوں کی اتنا تو مری خاطر کرنا
اس وقت بھڑک کر گل ہونا جب…
سنا ہے کھل گئےتھے ، ان کے گیسو سیرگلشن میں صبا تیرا برا ہو ، تو نے مجھ کو بے خبر رکھا نہ تُم آۓ شبِ وعدہ، پریشاں رات بھر رکھّا دِیا اُمّید کا میں نے جلا کر تا سحر رکھّا وہی دِل چھوڑ کر مجھ کو کسی کا ہو گیا آخر جسے نازوں سے پالا، جس کو ارمانوں سے گھر…
Continue Readingخود اپنے لیے بیٹھ کے سوچیں گے کسی دن یوں کہ تجھے بھول کے دیکھیں گے کسی دن بھٹکے ہوئے پھرتے ہیں کئی لفظ جو دل میں دنیا نے دیا وقت تو لکھیں گے کسی دن ہل جائیں گے اک بار تو عرش کے در و بام یہ خاک نشین لوگ جو بولیں گے کسی دن آپس کی کسی بات کا ملتا ہی نہیں وق…
Continue Readingیہ دشت ، یہ دریا ، یہ مہکتے ہوئے گلزار
اِس عالمِ امکاں میں ابھی کچھ بھی نہیں تھا
اِک ”جلوہ“ تھا ، سو گُم تھا حجاباتِ عدم میں
اِک ”عکس“ تھا ، سو منتظرِ چشمِ یقیں تھا
یہ موسمِ خوشبو ، یہ گہر تابیِ شبنم
یہ رونقِ ہنگامۂ کونین کہاں تھی ؟
گلنار گھٹاؤں سے یہ چھن…
Social Plugin