Showing posts from August, 2022Show all
 کتنی بدلی ہے سارے گلشن کی فضا،کیسے کہوں
 دِلِ گمشدہ! کبھی مل ذرا...
 سایہء زلف ڈال کے ہم کو پھنسا لیا
 غبار راہ آئینہء،نقش کارواں بھی ہے
 اے چاند یہاں نا نکلا کر۔۔۔۔
 سنو مجھے ہر پل تمھاری یاد آتی ھے
بکھر رہی ہے میری ذات ، اسے کہہ دینا
سلسلے توڑ گیا، وہ سبھی جاتے جاتے
اگر آلامِ ہجراں کم نہ ہوں گے
 رات آنکھوں میں ڈھلی پلکوں پے جگنو آئے
 چہرے پہ مرے زُلف کو پھیلاؤ کسی دن
 جاگتی آنکھوں میں اک خواب سجا رکھا ہے
 اک خواب گرا تھا میری آنکھوں سے
 اب کہ پھر سے بہار کی رت ہے
 عجیب موسم تھا جب ملے تھے
 آج کہیں ابر تو نہیں برسا ہے
 تلاش مجھکو نہ کردشت کے ویرانے میں
 آ دل کے سونے آنگن میں
 رات کی سیاہی نے سوچ کے دریچوں سے
 دل مسل دیتی ہے غم کی سیاہ رات
تمام رات وہ جاگا ہے
 موسم کی دہلیز پر رک کر
Load More That is All