کتنی بدلی ہے سارے گلشن کی فضا،کیسے کہوں
اڑ گئی امن و سکون کی فاختہ،کیسے کہوں
How much the atmosphere of Gulshan has changed, how can I say
The flag of peace and tranquility has flown, how can I say it?
بے اماں ہیں سب پرندے،کیاھوا،کیسے کہون
ہم صفیرو!آشیا…
دِلِ گمشدہ! کبھی مل ذراکسی خشک خاک کے ڈھیر پر
یا کسی مکاں کی منڈیر پر دِلِ گمشدہ! کبھی مِل ذرا
Lost heart! Sometimes found on a heap of dry dust
Or a lost heart on the temple of a house! meet sometime
جہاں لوگ ہوں، اُسے چھوڑ کر کسی راہ پر، کسی موڑ پر
دِ…
سایہء زلف ڈال کے ہم کو پھنسا لیا
پہلو میں لے کے آپ نے پہلو ہٹا لیا
The shadow threw us and trapped us
By taking in the side, you have removed the side
کر کے شکار ظلم کا اپنا بنا لیا
جیسے گناہ گار نے گنگا نہا لیا
He made the victim of oppression his own
As…
غبار راہ آئینہء،نقش کارواں بھی ہے
یہ گرد کارواں،سر گرمیوں کی ترجمان بھی ہے
The balloon is a mirror, the pattern is also a caravan
It is also a symbol of Gard Karvan, early summer
جو صحرائے جہاں میں،رہگزر اتنے
انہین ذروں میں،ظاھر زںدگانی کا نشان بھی ہے
W…
اے چاند یہاں نا نکلا کربے نام سےسپنے دیکھلا کر
O moon, don't come out here
Dreaming of the nameless
یہاں الٹی گنگا بہتی ھے
اس دیس میں اندھے حاکم ھیں
The reverse Ganga flows here
There are blind rulers in this country
نا روتے ھیں نا نادم ھیں
نا لوگوں …
سنو مجھے ہر پل تمھاری یاد آتی ھے
کبھی سانسوں کے چلنے پہ
Listen, I miss you every moment
Sometimes on breathing
تو کبھی دل کے مچلنے پہ
کبھی بارش کے برسنے پہ
So sometimes heartbreak
Sometimes it rains
تو کبھی آنکھیں چھلکنے پہ
کبھی چاند کے نکلنے پہ
So sometime…
غزل
بکھر رہی ہے میری ذات ، اسے کہہ دینا
کہیں ملے وہ ، تو یہ بات اسے کہہ دینا
اسے یہ کہنا کہ بن اس کے دن نہیں کٹتا
سسک کے کٹتی ہے ہر رات اسے کہہ دینا
وہ ساتھ تھا تو زمانہ تھا ہمسفر میرا
مگر اب کوئی نہیں ساتھ اسے کہہ دینا
گنوا کے پیار میں خود کو ہی ہم…
غزل
سلسلے توڑ گیا، وہ سبھی جاتے جاتے
ورنہ اتنے تو مراسم تھے، کہ آتے جاتے
شکوۂ ظلمتِ شب سے، تو کہیں بہتر تھا
اپنے حِصّے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
کتنا آساں تھا ترے ہجر میں مرنا جاناں
پھر بھی اک عمر لگی، جان سے جاتے جاتے
جشنِ مقتل ہی نہ برپا ہوا، ورنہ ہم …
غزل
اگر آلامِ ہجراں کم نہ ہوں گے
یہی ہو گا کہ اِک دن، ہم نہ ہوں گے
جئیں گے کِس طرح اہلِ محبّت
اگر اُن کے ستم پَیہم نہ ہوں گے
چراغاں ہو گا صحنِ گُلستاں میں
بہاریں ہوں گی، لیکن ہم نہ ہوں گے
کِیا ہے خُونِ دل سے جِن کو روشن
وہ یادِوں کے دئیے مدّھم نہ ہوں گے
ستاۓ…
رات آنکھوں میں ڈھلی پلکوں پے جگنو
آئے
ہم ہواؤں کی طرح جا کے اسے چھو آئے
اسکا دل ،دل نہیں پتھر کا کلیجہ ہوگا
جسکو پھولوں کا ہنر، آنسو کا جادو آئے
بس گئی ہے میرے احساس میں یہ
کیسی مہک
کوئی خوشبو میں لگاؤں تیری خوشبو
آئے
خوبصورت ہیں بہت دنیا کے جھوٹے
وعدے
پھ…
چہرے پہ مرے زُلف کو پھیلاؤ کسی دن
کیا روز گرجتے ہو برس جاؤ کسی دن
رازوں کی طرح اُترو مرے دل میں کسی شب
دستک پہ مرے ہاتھ کی کھُل جاؤ کسی دن
پیڑوں کی طرح حُسن کی بارش میں نہا لوں
بادل کی طرح جھوم کے گھر آؤ کسی دن
خُوشبو کی طرح گزرو مرے دل کی گلی سے
پھولوں ک…
جاگتی آنکھوں میں اک خواب سجا رکھا ہے
جیسے موتی صدف میں بند ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رکھا ہے
دل میں یوں احترام ہے ۔۔۔۔۔تیرا
جیسے صحیفہ رحل پہ رکھا ہے
انکی یادوں کو سر پہ ۔۔۔تان لیا
خود کو برباد کر کے رکھا ۔۔۔۔ہے
ہم نہیں جانتے اب وصل۔۔۔۔کی
راحت کیا ہے
خود کو بدحال کر کے…
اک خواب گرا تھا میری آنکھوں سے
نیندیں روٹھ گئ ہیں اب مجھ سے
جو پیکر خیال رہتا تھا میرے تکیے
تلے
وہ بھی رخصت طلب ہے اب مجھے
سے
نسرین چودھری
read more چھوٹا سا اک گاؤں تھا جس میںourہم اس جہان سے ارمان لے کے جائیں گے،
اب کہ پھر سے بہار کی رت ہے
خار و گل پر نکھار کی رت ہے
آرزو پھر مچل گئی یک ۔۔ ۔ دم
کسقدر بے مہار سی رت ۔۔۔۔ ہے
وصل کے خواب پھر امنڈ ۔آئے
ہجر حائل ہے پیار کی رت ہے
بیقراری کی چاپ لرزاں ۔۔۔ ہے
صبر قائل قرار کی رت ۔۔۔ ہے
پاس آو کہ دل بہل ۔۔۔۔۔۔ جائے
دیدہ و جا…
عجیب موسم تھا جب ملے تھے
سرد راتوں کی چاندنی تھی
حسین جذبوں کی
گرم جوشی سے دل کی
دنیا میں اک تپش تھی
آج ٹھٹھری ہوئی فضا میں
وجود بے جان ہو گیا ہے
فرق اتنا ہے تم نہیں ہو
نسرین چودھری
read more اے میرے ہم نشیں چل کہیں اور چلourﺳﻨﺎ ﮬﻮ ﮔﺎ ﺑﮩﺖ ﺗﻢ ﻧﮯ ۔۔۔
آج کہیں ابر تو نہیں برسا ہے
آج پھر آنکھ میں جل تھل کیوں ہے
رہ وفا میں ہار دیا تن من دھن
پھر بھی دل میں مچی ہلچل کیوں ہے
غزل جو لکھی تھی اک دوست کے
سنانے کو
پھر یہ لہجے میں تیرے درد مسلسل
کیوں ہے
ترک تعلقات پر تو ہی تو بضد تھا لیکن
تیرے چہرے پہ تشنگی کا آنچ…
تلاش مجھکو نہ کردشت کے ویرانے میں
نظر تو ڈال ذرا دل کے آشیانے میں
سنا ہے اب بھی گزرتا ہے اس مقام سے تو
جدا ہوئے تھے جہاں ہم کسی زمانے میں
خدا کرے کہ سلامت رہے حسن تیرا
تجھے نہ عار ہو بچھڑے ہوئے منانے میں
اے چشم ناز رہے نظر میں مسیحائی
تو اگر دیکھے مٹی کو…
آ دل کے سونے آنگن میں
پلکوں کے بھیگے دامن میں
ہم مست دھمالیں ڈالیں گے
برسات کی بھیگی شاموں میں
جو درد ملے دھو ڈالیں گے
ندیا کے بہتے پانی ۔۔۔۔میں
کوئل کی کو کو محرم ہے
اس ہجرکی کھینچا میں
میں نسرین چودھری
read moreتیرے هاتھ بناوں ، پنسل سےourکوئی جگن…
رات کی سیاہی نے سوچ کے دریچوں سے
میری عمر رفتہ کے دلنشین لمحوں کی
بھولی بسری یادوں کو تازگی سی بخشی ہے
کم نصیب لمحوں میں آنسوؤں کی حدت سے
سسکیوں کی شدت سے آنکھ پھر سے بھر آئی
نسرین چودھریread morتجھ کو معلوم نہیں تجھ کو بھلا کیا معلومourاے عِشق! تِیرِی …
دل مسل دیتی ہے غم کی سیاہ رات
بادلوں نے رکھےچاند پر جو اپنے ہاتھ
ٹوٹے جو میرے خواب راتیں بنیں عذاب
ڈھلتی اداس شام نے رکھے جو اپنے ہاتھ نسرین چوہدریread morمحبت کے تعاقب میںourجس نے مرے دل کو درد دیا
تمام رات وہ جاگا ہے دل کے بستر ۔۔۔۔۔ ۔پہ
میرے خیال سے۔۔اک پل جدا نہیں ۔۔۔ ہوتا
He is awake all night in the bed of the heart. The foot
In my opinion, not a bridge separates. would have
فراق یار میں الجھےتو دل کو ۔۔۔۔بہلایا
وقت کا فیصلہ کوئی سدا نہیں ہ…
موسم کی دہلیز پر رک کر
بکھری یادیں جوڑ رہی ہوں
Stopping at the threshold of the season
Connecting scattered memories
لہراتی ہوا کے ہاتھ پر رکھ کر
دل کی کتاب کھول رہی ہوں
By laying on the hand of the waving wind
I am opening the book of the heart
یادوں کا اک…
Social Plugin